یورپی یونین نے روس پر نئی پابندیوں کی منظوری دیدی

سٹاک ہوم: یورپی یونین میں شامل رکن ممالک کی جانب سے یوکرین جنگ کے تناظر میں روس پر نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے 11 ویں پیکیج کی منظوری دیدی۔
بطور صدر یورپی یونین سوئیڈن کی جانب سے نئی پابندیوں کا اعلان کیا گیا جس کے تحت ٹیکنالوجی کے شعبے سے تعلق رکھنے والی ایسی اشیاء کو بھی پابندی کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جو ممکنہ طور پر روس کے فوجی سیکٹر کیلئے مدد گار ثابت ہو سکتی ہیں۔
نئی پابندیوں کے تحت روسی حکومت کے زیر کنٹرول پانچ براڈ کاسٹنگ اداروں کے لائسنس بھی منسوخ کر دئیے گئے ہیں۔
نئی پابندیوں کے تحت مبینہ طور پر یوکرینی بچوں کو غیر قانونی طور پر روس ڈیپورٹ کرنے کے الزام میں 71 افراد اور 33 اداروں کے اثاثے منجمند کردئیے گئے ہیں۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق کسی تیسرے ملک ایسی حساس اشیاء کی فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جو کہ دوہرے مقاصد کیلئے قابل استعمال ہوں، اور وہ ایسی اشیاء روس کو فروخت کر دے۔
یورپی یونین کے اجلاس میں ایسے مشتبہ ممالک کی فہرست بھی تیار کی گئی ہے جن کو حساس اور دوہرے استعمال کی اشیاء فروخت کرنے پر پابندی عائد کی جائے گی۔
یورپی یونین کی جانب سے طویل عرصے سے روس کے پڑوسی ممالک آرمینیا، قازقستان، کرغستان، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور چین کی جانب سے یورپی یونین کی اشیاء کی مانگ بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیا جارہا تھا۔
یورپی یونین کمیشن کی صدر ارسلا وین ڈیر لین کی جانب سے بھی نئی پابندیوں کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔
اس سے قبل نئی پابندیوں کی تیاری کے مرحلے پر ہنگری اور یونان کی جانب سے اپنی کمپنیوں پر جنگ میں مدد کا الزام عائد کرکے لگائی گئی یوکرینی پابندیوں پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا جس کے بعد یوکرین نے فوری طور پر یونان کی 5 شپنگ کمپنیوں کو پابندی کی فہرست سے خارج کر دیا تھا۔
دوسری جانب ہنگری کی او ٹی پی بینک تاحال یوکرین کی پابندیوں کی فہرست پر برقرار ہے تاہم ہنگری کی جانب سے نئی پابندیوں کی حمایت کی گئی ہے۔
یورپی یونین کی جانب سے لگائی گئی نئی پابندیوں کے اعلان سے قبل برطانیہ میں روسی سفارت خانے کی جانب سے چند روز پہلے گیارہویں پابندیوں کا پیکیج اور پس منظر کے عنوان سے امریکی صدر کی ایک ویڈیو ٹوئٹ کی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں